سید
[1/12, 1:35 PM] فیضان حضرت شیخ الشیوخ: السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماۓدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کا اپنی زوجہ سے استقرار نہیں پا رہا تو کیا وہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی(ivf) تھیراپی کرا سکتا ہے،استعمال کرسکتے ہیں بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس میں کسی اور کا اسپرم استعمال کرتے ہیں اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسی مرد کا تو کیا ایسے میں مسلم ڈاکٹر سے ivf کرانا درست ہوگا یا کسی سے بھی کرا سکتے ہیں
عندالشرع اس کا کیا حکم ہے؟ جواب عنایت فرمائیے!
المستفتی: حافظ عبدالرحمن اشرفی امام و خطیب عالمگیری مسجد داہود شریف
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
بسم اللہ الحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
واضح رہے کہ زید کی عورت کے رحم میں امساک و استقرار کی صلاحیت موجود نہ ہو تو مذکورہ فی السوال غیر فطری طریقوں سے اولاد حاصل کرنا اسلام میں جائز نہیں تاہم دریافت کردہ مسئلے میںIVF کرانے کے تین طریقے معروف ہیں اور وہ یہ ہیں
١ بیوی کے رحم میں مادہ منویہ اس کے شوہر کا رکھا جاتا ہے
٢ اس عورت کے رحم میں کسی دوسرے مرد کا مادہ منویہ رکھا جاتا ہے
٣ مادہ منویہ دوسری عورت کے رحم میں رکھا جاتا ہے!
مندرجہ بالا دوسرا اور تیسرا طریقہ ناجائز ہیں جبکہ پہلا طریقہ چند قیودات کے ساتھ جائز ہے لیکن انتہائی دشوار گزار ہے کیوں کہ عورت کی فرج میں مادہءمنویہ رکھنے کے لیے طبی عملہ (لیڈی/جینس ڈاکٹر اسٹاف) کے سامنے ستر عورت کھولنا پڑتا ہے،اور اجنبی مرد یا عورت کا دوسری عورت کی شرمگاہ دیکھنا حالت اضطرار کے علاوہ عام حالات میں ناجائز و حرام ہے،اور حصول اولاد کے لیے کسی اجنبی سے مادہ منویہ (Sprems) داخل کرانا وجہ شرعی یا ضرورت شدیدہ سے نہیں ہے کہ اسے جائز قرار دیاجاۓ، ہاں البتہ جواز کی صورت میں شوہر کسی طبیب حاذق (ماہر ڈاکٹر)سے رہنمائی لیکر اپنے جرثموں (Sprems) اور بیوی کے انڈوں (ovum) کو ملا کر بیوی کے رحم میں داخل کر سکتا ہے یا بیوی کسی ماہر لیڈی ڈاکٹر سے تعلیم حاصل کرکے اس کام کو خود انجام دے سکتی ہے اس کے نتیجہ میں متولد بچہ ثابت النسب ہوگا مگر یہ امر بےحد مشکل ہے بہرحال شوہر یا بیوی تنہائی میں یہ کام کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں ورنہ بصورت دیگر جائز نہیں،اور یہ بھی خاص طور پر معلوم رہے کہ عورت کی شرمگاہ میں مادہ منویہ پہنچانے کے لیے شوہر کی منی کا اخراج بیوی کے ذریعے ہو یا پھر عزل کے طور پر ہو شوہر از خود اخراج نہیں کر سکتا!
پہلی صورت میں بچہ ثابت النسب ہوگا چنانچہ البحرالرائق میں امام اہلسنت حضرت علامہ ابن نجیم مصری (المتوفٰی ٨٧٠ھ) لکھتے ہیں: "وما قیل لا یلزم من ثبوت النسب منہ وطؤہ لان الحبل قد یکون بادخال الماءالفرج دون جماع مع انہ نادر والوجہ الظاہر ھوالمعتاد:
ترجمہ: اور جو کہا گیا کہ کسی شخص سے ثبوت نسب سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس نے (بیوی سے)وطی بھی کی ہو کیوں کہ بعض اوقات بغیر جماع کے (صرف) عورت کے رحم میں مادہ منویہ پہنچانے سے بھی وہ حاملہ ہوجاتی ہے لیکن یہ معاملہ نادر ہے (البحرالرائق کتاب الطلاق باب ثبوت النسب ج ٤ص٢٦٣ س ١٧، ١٨)
فتاوی عالمگری میں ہے امام اہلسنت حضرت سید زین الدین شیرازی اور فقہاۓکرام لکھتے ہیں"رجل عالج جاریتہ فیما دون الفرج فانزلت فاخذت ماءہ فی شئی فاستدخلتہ في فرجہا فعلقت عند ابی حنیفۃ ان الولد ولدہ وتصیر الجاریۃ أم ولد لہ"
ترجمہ:کسی مرد نے اپنی بابندی سے فرج کے علاوہ میں علاج کیا اور پھر انزال ہوا اور اس (باندی) نے مادہ منویہ کو کسی چیز میں لیکر اپنی رحم میں داخل کر لیا تو (اس صورت میں پیدا ہونے والا بچہ)امام اعظم ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے نزدیک اس مرد کا ہوگا اور باندی اس کی ام ولد ہوگی!
(فتاوی عالمگیری ج٤ ص١١٤ البحرالرائق کتاب العتق باب الاستیلاد ج ٤ص٤٥٢)
مرد کا اپنے ہاتھ سے منی نکالنا جائز نہیں حدیث پاک میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ناکح الید کو ملعون فرمایاہے البتہ بیوی کے ذریعے اخراج منی جائز ہے جیساکہ امام اہلسنت علامہ شامی قادری نقشبندی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : "ویجوز یستمنی بید زوجتہ"
ترجمہ:بیوی کے ہاتھ سے فراغت پانا جائز ہے
(ردالمحتار ج ٦ کتاب الحدود ص٣٩ دارعالم الکتب)
دوسری اور تیسری صورت جائز نہیں کیوں کہ غیر مرد کا نطفہ عورت کے رحم میں داخل کیا جاتا ہے اور غیر نطفہ کے بارے میں ابوداؤد شریف کی حدیث مبارک میں ہے" قَالَ: لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْقِيَ مَاءَهُ زَرْعَ غَيْرِهِ"
ترجمہ:اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے کسی بھی شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے پانی سے کسی اور کی کھیتی سیراب کرے
(سنن ابي داودكتاب النكاح
باب في وطء السبايا
حدیث ٢١٥٨)
واللہ تعالٰی و رسولہ الاعلٰی اعلم بالصواب عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم
کتبہ: سید محمد نذیرالہاشمی سہروردی
داہود شریف الہند
بتاریخ١٣جمادی الاول١٤٤٧ھ
بمطابق٥نومبر٢٠٢٥ء
بروز چہار شنبہ (بدھ)
[1/12, 1:35 PM] فیضان حضرت شیخ الشیوخ: السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماۓدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کے پاس ایک جانور ہے جو ایک بزرگ کے عرس کے لنگر میں دینے کی نیت سے رکھا ہے لیکن ان بزرگ کا مزار زید کے گاؤں سے بہت دور ہے اس لیے اس جانور کو مزار تک پہنچانے میں دقت پڑ سکتی دریافت طلب امر یہ ہےکہ کیا مذکورہ جانور کو فروخت کرکے اس کی قیمت عرس کے کام میں استعمال کرسکتے ہیں عندالشرع اس کا کیا حکم ہے؟ جواب عنایت فرمائیے!
المستفتی: محمد اکبر علی اشرفی سہروردی گجرات
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
واضح رہے کہ جو نذر (یعنی نیاز یا جانور) کسی شرط کے ساتھ معلق نہ ہو یا بطور ایجاب نہ ہو تو اس کا پورا کرنا ضروری نہیں یعنی نیاز کے لیے خاص اسی جانور کا ذبح کرنا لازم نہیں، لھٰذا صورت مسؤلہ میں ایسے جانور کو فروخت کرکے اس کی قیمت عرس کی نیاز یا دیگر کسی بھی نیک کام میں استعمال کرسکے ہیں اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں
سیدی اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے فتاوی رضویہ میں ایک سوال ہوا کہ کسی نے بکری یا مرغی موجودہ کی نسبت مخصوص کرکے کہا کہ میں اس بکری یا مرغی کی نیاز کروں گا، پھر کسی وجہ سے وہ مفقود ہوگئیں تو بجائے اس کے دوسری بکری مرغی یا گائے وغیرہ کی اسی قدر گوشت سے نیاز ہوگی یانہیں؟
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواباً ارشاد فرمایا:’’اگر یہ نیاز نہ کسی شرط پر معلق تھی مثلاً میرا یہ کام ہوجائے تو اس جانور کی نذر کروں گا، نہ کوئی ایجاب تھا مثلاً اﷲ کےلئے مجھ پر یہ نیاز کرنی لازم ہے جب تو یہ نذر شرعی ہو نہیں سکتی(لھٰذا ایسی صورت میں اس کا پورا کرنا ہی لازم نہیں)‘‘۔(فتاوٰی رضویہ ج١٣ ص٥٨٩ رضافاؤنڈیشن لاھور)
واللہ تعالٰی و رسولہ الاعلٰی اعلم بالصواب
عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم
کتبہ:سید محمد نذیرالہاشمی سہروردی داہود شریف الہند
بتاریخ٢جمادی الاول١٤٤٧ھ
بمطابق٢٤اکتوبر٢٠٢٥ء
بروز جمعہ
[1/12, 1:35 PM] فیضان حضرت شیخ الشیوخ: السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماۓدین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ ایک مسجد کا نقشہ ایسا ہے کہ جس میں پہلی تین صفوں کے لحاظ سے تو امام کا مصلی محراب کے بالکل درمیان میں آتا ہے لیکن پچھلی تین صفیں پہلی تین صفوں کے بالمقابل امام کے دائیں جانب زیادہ بڑھ رہی ہیں اس اعتبار سے امام کا مصلی ایک طرف ہو رہا ہے تو کیا صورت مذکورہ میں پچھلی تین صف والوں کی نماز درست ہوگی یا نہیں؟
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
پوچھی گئ صورت میں اور پیش کردہ نقشہ کے مطابق امام کا مصلی پہلی تین صفوں کے اعتبار سے سنت کے مطابق بالکل درمیان محراب میں واقع ہو رہا ہے،اور اس صورت میں اعتدال طرفین ہونے کی بنا پر کسی طرح کی کوئی کراہت لازم نہیں آئےگی کیوں کہ امام کا مصلی وسط مسجد میں ہونا سنت مؤکدہ ہے اور یہاں وہ پایا جا رہا ہے لھذا نماز بالکل جائز اور درست ہوگی جبکہ کوئی اور مانع وجہ شرعی نہ ہو
امام کا وسط مسجد میں کھڑا ہونا سنت مؤکدہ ہے جیساکہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ:"وسطوا الإمام وسدوا الخلل"ترجمہ امام کو بیچ میں رکھو اور صفوں کے خلل کو پر کرو(سنن ابی داؤد ، باب مقام الإمام من الصف ٢/ ١٨ دار الرسالة العالمية) اسی وجہ سے فقہاءکرام نے لکھا ہے:"السنۃ أن یقوم الإمام فی المحراب لیعتدل الطرفان"ترجمہ:امام محراب میں کھڑا ہو تاکہ دونوں طرف (صفیں) برابر ہوں،
اب رہا مسئلہ پچھلی تین صفوں کا جو پہلی تین صفوں کے بالمقابل امام کے دائیں جانب بڑھ رہی ہیں تو یہ نقشے کے مطابق جگہ کی قلت کی بنا پر ہے نہ کہ بلا وجہ لھذا اس نقشہ کے مطابق اگر صفیں امام کے دائیں جانب بڑھ بھی جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں،لھذا نماز درست ہوگی
ہاں البتہ اگر بغیر کسی مجبوری یا بغیر ضیق مقام،اگر امام کے دائیں یا بائیں مقتدی زیادہ کھڑے ہو جائیں تو اس صورت میں اعتدال صفوف نہ ہونے کی وجہ سے کراہت لازم آۓگی جبکہ نماز اس صورت میں بھی ہو جاۓگی،
معلوم ہونا چاہیے کہ احادیث مبارکہ میں تسویۃالصفوف اور اعتدال الطرفین کے متعلق سخت تاکید اکید آئی ہے جب تک پہلی صف مکمل نہ ہو دوسری صف نہ بنائی جاۓ اگرچہ پہلی صف میں ایک ہی دن شخص کی جگہ خالی کیوں نہ ہو پہلے اسے پر کرنا ہوگی پھر دوسری تیسری صف بنائی جائیں گی کیوں کہ بلا وجہ شرعی صف مکمل نہ کرنا یا اس میں فرجہ رکھنامکروہ تحریمی ہے،
الدرالمختار مع ردالمحتار میں ہے:"وعليه فلو وقف في الصف الثاني داخلها قبل استكمال الصف الأول من خارجها يكون مكروهًا"یعنی:پہلی صف مکمل کرنے سے پہلے دوسری صف میں کھڑا ہونا مکروہ ہے، "وَلَوْ صَلَّى عَلَى رُفُوفِ الْمَسْجِدِ إنْ وَجَدَ فِي صَحْنِهِ مَكَانًا كُرِهَ، كَقِيَامَه فِي صَفٍّ خَلْفَ صَفٍّ فِيهِ فُرْجَةٌ‘‘یعنی:اگر کوئی شخص مسجد کے صحن میں جگہ ہونے کے باوجود اس کی جھت،مینار، پر نماز پڑھے تو یہ مکروہ ہے، کیوں کہ یہ اسی طرح ہے کہ آگے صف میں جگہ خالی ہے اور وہ پیچھے والی صف میں کھڑا ہو’’(قوْله: كقيامه في صفّ الخ) هل الكراهة فيه تنزيهية او تحريمية، و يرشد الى الثاني قوله صلى الله عليه وسلم: "ومن قطعه قطعه الله"
یعنی: (مصنف کے قول کقیامہ فی صف الخ) سے مراد اس میں کراہت تنزیہی ہے یا تحریمی؟ تو یہ دوسرے قول (کراہت تحریمی) کی جانب ہدایت کرتا ہے،جیساکہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم کا قول مبارک ہے جو صف کاٹے اللہ اسے اپنی رحمت سے کاٹ دےگا
(درالمختار مع ردالمحتار ج١ص ٥٦٩، ٥٧٠ درالمختار مع الردالمحتار )
مذکورہ بالا عبارات کی روشنی میں معلوم ہواکہ نقشہ کے مطابق صفیں بنائی جائیں تو نماز بالکل درست ہوگی اگرچہ پچھلی تین صفیں امام کے دائیں جانب بڑھ جائیں کہ یہ مجبوراً ہے نکہ بلا وجہ!
واللہ تعالٰی و رسولہ الاعلٰی اعلم بالصواب
کتبہ : سید محمد نذیرالہاشمی سہروردی داہود شریف الہند
بتاریخ٢١ربیع الآخر١٤٤٧ھ
بمطابق١٤اکتوبر٢٠٢٥ء
بروز سہ شنبہ (منگل)
[1/12, 1:35 PM] فیضان حضرت شیخ الشیوخ: السلام علیکم ___تتغیر الاحکام باختلاف الزمان او بتغیر الزمان ___کیا فکر رکھتے اس مقولے پر یہ عبارت کتنی متحقق ھے اور کیا اس پر عمل ھوتا ھے یا عمل میں لایا جا سکتا ھے اگر عمل میں لایا گیا تو کہاں واگر عمل نہیں تو کیوں رہنمائی فرمائیں
المستفتی: سید خلیق اشرف
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
واضح رہے کہ مذکورہ مقولے پر عمل کرنا جائز ہے،کیوں کہ مسائل یا فتوے اختلاف زمان سے مختلف ہوتے ہیں ،لیکن یہاں ایک بات قابل غور ہے اور وہ یہ ہے کہ اس مقولہ کے مطابق عرف کی تبدیلی سے صرف ان مسائل میں تبدیلی آتی ہے جو عرف پر مبنی ہوں جن پر زمانہ کے مطابق اجتہاد کیا گیا ہو،البتہ جو مسائل قرآن و حدیث کے قطعی حکم پر مبنی ہوں تو ان میں عرف کے بدلنے سے بھی کوئی تبدیلی نہ ہوگی اور ایسے ہی اگر عرف و عادت نص صریح کے بالکل مخالف ہو تو اس میں اجتہاد معتبر نہ ہوگا اور ایسے عرف سے احکام میں تبدیلی ہرگز روا نہ ہوگی!
رسائل ابن عابدین میں ہے
”قالوا فی شروط الاجتهاد: أنه لا بد فیه من معرفة عادات الناس، فکثیر من الأحکام تختلف باختلاف الزمان لتغیر عرف أهله ولحدوث ضرورۃ أو فساد أهل الزمان بحیث لوبقی الحکم علی ما کان علیه اوّلا، للزم منه المشقۃ والضرر بالناس، ولخالف قواعد الشریعة المبنیة علی التخفیف والتیسیر ودفع الضرر والفساد“
ترجمہ:فقہاۓکرام نے اجتہاد کی شرطوں میں( ایک شرط یہ بھی) بیان کی ہے کہ اس میں لوگوں کی عادات کی پہچان ضروری ہے، کیونکہ بہت سے احکام ایسے ہیں جو زمانے کی تبدیلی سے بدل جاتے ہیں،اہل زمانہ کا عرف بدلنے یا کسی ضرورت یا کسی فساد کی وجہ سے ایسی صورت پیدا ہوجاتی ہے کہ اگر پہلا حکم باقی رہے تو لوگوں پر ضرر اور مشقت لازم آۓ اور (وہ احکام) قوانین شریعت کے خلاف ہیں جن کی بنیاد تخفیف و تیسیر ( آسانی و سہولت دینے) اور ضرر و فساد کو دور کرنے پر مبنی ہے۔(مجموعة رسائل ابن عابدين، ج٢ ص١٢٥ مطبوعہ سھیل اکیڈمی)
انوارالبروق میں ہے:”فإذا تغيرت العادة أو بطلت، بطلت هذه الفتاوى، وحرمت الفتوى بها لعدم مدركها فتأمل ذلك، بل تتبع الفتاوى هذه العوائد كيفما تقلبت كما تتبع النقود في كل عصر“
ترجمہ: پس تو جب عادت بدل جاۓ یا ختم ہوجاۓ تو وہ فتاوی بھی کالعدم ہوجائیں گے (جو اس عرف و عادت کے مطابق بیان کیے گۓ تھے) اس لیے وہ علت عرف و عادت کے بدلنے سے ختم ہوچکی ہے بلکہ فتاوی اس عرف و عادت کے مطابق ہوں گے جس طرف عادت بدلےگی جیساکہ ہر زمانہ میں نقود (کرنسی,نوٹ) کا (معاملہ) پایا جاتا ہے (أنوار البروق في أنواء الفروق، ج١ص ٢٨٨ مطبوعہ بیروت )
نشر العرف میں ہے
’’لیس للمفتی و لا للقاضی ان یحکما بظاھر الروایۃ و یترکا العرف ‘‘
ترجمہ: مفتی اور قاضی کے لیے یہ (اختیار) نہیں کہ عرف چھوڑ کر ظاہرالروایہ کے مطابق احکام صادر کریں
(رسائل ابن عابدین،ج١ص١٣٣ مطبوعہ سھیل اکیڈمی)
جو عرف و بلوی خلاف نص ہو اس کا اعتبار نہ ہوگا,مبسوط سرخسی اور تبیین الحقائق میں ہے:”وإِنما تعتبر البلوٰی فیما لیس فیہ نص بخلافہ فأما مع وجود النص لا معتبر بہ“
ترجمہ: اسی (عموم) بلوی کا اعتبار یوگا جو نص صریح کے خلاف نہ ہو ورنہ نص کی موجودگی میں(عموم بلوی) غیر معتبر ہوگا
(مبسوط سرخسی ج٤ ص ١٠ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ تبیین الحقائق ج٢ ص٨٠ مطبوعہ بیروت)
عرف اگر دلیل شرعی کے مخالف ہو تو ترک کر دیا جاۓگا
چنانچہ حضرت علامہ شامی قادری نقشبندی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:"اذا خالف الدلیل الشرعي، فان خالفہ من کل وجہ بأن لزم منہ ترک النص، فلا شک في ردہ کتعارف الناس کثیراً من المحرمات من الربا و شرب الخمر ولبس الحریر والذہب وغیر ذلک مما ورد تحریمہ نصاً۔
ترجمہ: جب (عرف) دلیل شرعی کے خلاف ہو, تو اگر اس کا خلاف ہونا کسی بھی وجہ سے بایں طور ہو کہ اس سے ( یعنی اس عرف پر عمل کرنے سے) نص شرعی کا ترک لازم آۓ تو بلا شک و شبہ اسے مسترد کر دیا جاۓگا,جیساکہ بہت سے لوگ کی عادت ہے کہ ایسی اشیاء کا استعمال کرتے ہیں جن کی حرمت پر نص شرعی وارد ہے مثلا سود (کا لین دین) شراب پینا ریشم اور سونا پہننا وغیرہ وغیرہ
( رسائل ابن عابدین: ۲/۱۱۶، نشر العرف في بناء بعض الأحکام علی العرف)
واللہ تعالٰی و رسولہ الاعلٰی اعلم بالصواب عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم
کتبہ: سید محمد نذیرالہاشمی سہروردی
داہود شریف الہند
بتاریخ ٣ ربیع الآخر١٤٤٧ھ
بمطابق٢٦ ستمبر٢٠٢٥ء
بروز جمعہ
[1/12, 1:35 PM] فیضان حضرت شیخ الشیوخ: السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماۓدین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ زید اور اس کی بیوی ہندہ کے مابین پانچ سال قبل جھگڑا ہوا تھا زید نے ایک طلاق رجعی دے دی تھی اور پھر بعد میں رجوع بھی کر لیاتھا،،،ابھی دو دن پہلے ہی زید اور ہندہ کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوا ہندہ بولی میں چلی جاؤں گی تم ظلم کرتے ہو زید نے غصے میں کہا "جا چلی جا" ایسا تین سے چار بار بغیر نیت طلاق کہا،،تھوڑی دیر بعد ہندہ منانے کو آئی اور زید کو کہا کہ دیکھو بچہ رو رہا ہے اس کی طرف دیکھو اور مان جاؤ ،،،،اس پر زید کو پہلے سے زیادہ غصہ آ گیا اور مزید بات آگے بڑھی تو زید نے ہندہ کو مارتے ہوۓ گالی بکی اور کہا طلاق دے دوں گا،طلاق دے دوں گا پھر بولا طلاق دیتا ہوں ہندہ یہ جملہ سنتے ہی روم سے باہر نکل گئ،،، اس کے بعد زید نے اپنی پھوپھی سے فون پر کہا "اسے یہاں سے اس کے گھر چھوڑ دو"،،،جب یہ کہا اس وقت اس کی بیوی ہندہ وہاں موجود نہیں تھی دریافت یہ کرنا ہے کہ کیا صورت مذکورہ میں ہندہ پر طلاق واقع ہوچکی ہے؟ جواب عنایت فرمائیے
سائل محمد بشیر نقشبندی گجرات
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
اگر ایسا ہی ہےجیساکہ سوال میں مذکور ہے تو بر تقدیر صدق مستفتی صورت مذکورہ میں "طلاق دیتا ہوں" کہنے سے زید کی بیوی ہندہ پر مزید ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی ہے اور سوال میں مذکور کہ زید کی بیوی نے کہا "میں چلی جاؤں گی تم ظلم کرتے ہو" اس پر زید کا بغیر نیت طلاق تین سے چار بار غصہ میں یہ کہنا کہ "جا چلی چا" اور مارتے ہوۓ گالی بکنا" تو اس سے کوئی طلاق واقع نہ ہوئی کیوں کہ مذکورہ جملہ "جا چلی جا" از قبیل الفاظ کنایہ سے ہے اور کنایات میں نیت یا دلالت حال کے بغیر طلاق واقع نہیں ہوتی،اگرچہ ایک مجلس میں تین،چار بار کہے یا مختلف مواقع پر چند بار کہے،خواہ خوشی میں کہے یا غضب میں اور گالی بکنے سے بھی طلاق واقع نہ ہوگی کیونکہ گالی بکنے میں طلاق ہونا خوشی اور غضب دونوں میں نیت پر موقوف رہتا ہے البتہ طلاق کا ذکر ہو تو نیت ضروری نہیں، اور زید کا یہ کہنا "طلاق دے دونگا طلاق دے دونگا" تو اس سے بھی طلاق واقع نہ ہوگی کیوں کہ مذکورہ جملہ مستقبل کا ہے اور صیغئہ مستقبل سے طلاق واقع نہیں ہوتی
طلاق دیتا ہوں کہنے سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگی،جیساکہ فتاوی عالمگیری میں ہے:"
وَهُوَ كَأَنْتِ طَالِقٌ وَمُطَلَّقَةٌ وَطَلَّقْتُك وَتَقَعُ وَاحِدَةٌ رَجْعِيَّةٌ وَإِنْ نَوَى الْأَكْثَرَ أَوْ الْإِبَانَةَ أَوْ لَمْ يَنْوِ شَيْئًا كَذَا فِي الْكَنْزِ.
ترجمہ: اور وہ (یہ کہے) تو طلاق یافتہ ہے اور تو مطلقہ ہے اور میں نے تجھے طلاق دی تو (مذکورہ صورتوں) میں ایک طلاق رجعی واقع ہوگی خواہ اکثر کی نیت کرے یا بائنہ کی یا کچھ بھی نیت نہ کرکے جیساکہ کنز میں ہے
( فتاوی عالمگری كتاب الطلاق، ج١، ص:٣٥٤)
الفاظ کنایہ سے بغیر نیت یا بغیر دلالت حال طلاق واقع نہیں ہوتی،جیساکہ فتاوی شامی میں ہے "ولو قال: اذہبي فتزوجي، وقال لم أنو الطلاق لا یقع شيء"
ترجمہ: اور اگر (شوہر بیوی سے) کہے چلی جا،تو شادی کرلے اور کہے کہ میں نے طلاق کی نیت سے نہیں بولا تھا تو (مذکورہ جملہ سے) کچھ بھی واقع نہ ہوگا! (فتاوی شامي : ۴/۵۵۱)
العنایہ فی شرح الھدایہ میں ہے "و اما الضرب الثانی و ھو الکنایات لا یقع بھا الطلاق إلا بالنیة أو بدلالة الحال لأنها غیر موضوعة للطلاق بل تحتمله وغیرہ فلا بد من التعیین "اھ
ترجمہ: اور رہی دوسری قسم اور وہ کنایات ہے اور کنایات سے طلاق واقع نہ ہوگی جب تک کہ نیت طلاق نہ ہو یا دلالت حال پائی نہ جاۓ کیوں کہ ان (کنایات) کی وضع طلاق کے لیے نہیں ہوئی بلکہ وہ طلاق اور غیر طلاق دونوں کا احتمال رکھتے ہیں پس (ان الفاظ کنایہ) سے طلاق کا تعین کرنا ضروری ہوگا (اور بغیر نیت طلاق نہ ہوگی)
( العنایہ فی شرح الھدایہ ج ٢ ص ٤٢٩: فصل فی الطلاق قبل الدخول ، دار الکتب العلمیہ بیروت / حواشی علی ملتقی الابحر ج ٢ ص ١٥٧ کتاب الطلاق ، دار الکتب العلمیہ بیروت )
فتاوی عالمگیری میں ہے: "لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا فی الجوهرة النيرة "
ترجمہ: (کنایات) سے طلاق واقع نہ ہوگی الا یہ کہ نیت ہو یا طلاق پر کوئی قرینہ موجود ہو جیساکہ الجوہرہ النیرہ میں ہے
( فتاوی عالمگیری ج ١ ص ٣٧٤، الفصل الخامس فی الكنايات ، دار الفکر بیروت )
"طلاق دے دوں گا" کہنے سے طلاق نہ ہوگی فتاوی عالمگیری میں ہے:"قالت:طلاق بدست تواست مرا طلاق کن فقال الزوج طلاق میکنم طلاق میکنم وکرر ثلاثا طلقت ثلاثا بخلاف قولہ کنم لانہ استقبال فلم یکن تحقیقا بالتشکیک"
ترجمہ:بیوی نے شوہر کو کہا کہ طلاق تیرے (ہاتھ)اختیار میں ہے تو مجھے طلاق دے دے تو شوہر نے جواب میں کہا کہ میں طلاق دے رہا ہوں، طلاق دے رہا ہوں، تین بار تکرار کیا تو تین طلاقیں واقع ہوں گی، برخلاف اس کے اگر شوہر یوں کہے کہ میں طلاق دوں گا تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ یہ استقبال ہے لہٰذا شک ہوگا اور طلاق نہیں ہوگی۔
( فتاوی عالمگیری كتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل السابع في الطلاق بالألفاظ الفارسية،جلد١ص ٣٨٤کوئٹہ)
اگر شوہر عدت کے اندر رجوع کرنا چاہے تو کر سکتا ہے جیساکہ فتاوی عالمگیری میں ہے:"وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض کذا فی الھدایۃ
ترجمہ: اور جب مرد اپنی عورت کو ایک یا دو طلاق (رجعی) دے تو اسے عدت کے اندر رجعت کا حق حاصل ہے خواہ عورت اس سے راضی ہو یا نہ ہو جیساکہ ہدایہ میں ہے
(فتاوی عالمگیری الباب السادس فی الرجعۃ کتاب الطلاق ج١ ص ٤٧٠)
الانتباہ: (١) اگر زید و ہندہ دونوں رضامندی سے دوبارہ ایک ساتھ پہلے کی طرح رہنا چاہتے ہوں تو رجعت کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ عدت کے اندر زید دو گواہوں کی موجودگی میں ہندہ سے یوں کہ "میں تجھے اپنے نکاح میں لیتا ہوں یا میں نے تجھ سے رجعت کی"
یا پھر جسمانی تعلق قائم کرلینے سے بھی رجعت ہوجاۓگی اس میں نۓ نکاح کی حاجت نہیں،البتہ بعد انقضاۓعدت بغیر نکاح جدید اور عورت کی رضا مندی کے نکاح میں رکھنا جائز نہ ہوگا
٢ اس بات کا خاص خیال رہے کہ زید ہندہ کو پانچ سال قبل ایک طلاق رجعی دے کر رجعت کر چکا تھا اور یہ دوسری رجعی طلاق ہوگئ ہے یعنی اب تک کل دو رجعی طلاقیں پڑ چکی ہیں،لھٰذا زید اب آئندہ کے لیے صرف ایک ہی طلاق کا مالک ہے خدا نخواستہ اگر زید آئندہ جب بھی صریح یا بائن طلاق دےگا تو اس کی بیوی حرمت مغلظہ سے ہمیشہ کے لیے اس پر حرام ہوجاۓگی اور بغیر صحیح حلالہ کے اسے دوبارہ نکاح میں لانا جائز نہ ہوگا،
،جیساکہ خلیفۂ اعلٰی حضرت، صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مرادآبادی(المتوفی: ١٣٦٧ھ/١٩٤٨ء) علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ”تین طلاقوں کے بعد عورت شوہر پر بحرمتِ مغلظہ حرام ہوجاتی ہے اب نہ اس سے رجوع ہوسکتا ہے نہ دوبارہ نکاح جب تک کہ حلالہ ہو یعنی بعد عدت دوسرے سے نکاح کرے اور وہ بعد صحبت طلاق دے (یا فوت ہو جائے) پھر عدت گزرے۔“
(تفسیر خزائن العرفان، سورۃ البقرۃ، صفحہ نمبر٧٨ مطبوعه: مکتبۃ المدینہ، کراچی)
کتبہ: سید محمد نذیرالہاشمی سہروردی داہود شریف الہند
بتاریخ٢٠ربیع الاول شریف١٤٤٧ھ
بمطابق١٣ستمبر٢٠٢٥ء
بروز ہفتہ (سنیچر)
[1/12, 1:35 PM] فیضان حضرت شیخ الشیوخ: کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسٸلہ کے بارے میں کہ اذان خطبہ کہاں ہونی چاہیے اور اس کا درست محل کیا ہے اقامت اذان کے مثل ہے تو وہ اندر کیوں ہوتی ہے اور اذان باہر ؟ ،تشفی بخش جواب ارشاد فرماٸیں بروز بدھ ٣٠ جولائی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
واضح رہے کہ اذان کا مقصد غائبین کو نماز کی خبر دینا ہے اس لیے خطبہ کی اذان بھی خارج مسجد ہونی چاہیے اور یہی اس کا درست محل اور سنت متوارثہ ہے مسجد کے اندر دینا بدعت ہےچنانچہ حدیث شریف میں ہے: "عن سائب بن یزید قال کان یؤذن بین یدی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم اذا جلس علی المنبر یوم الجمعۃ علی باب المسجد وابی بکر و عمر"
ترجمہ: حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا جب حضور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم جمعہ کے دن منبر پر تشریف رکھتے تو حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان ہوتی اور ایساہی حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کے زمانہ میں رائج تھا (ابوداؤد شریف ج١ ص ١٥٥)
فتاوی عالمگیری میں ہے:"وینبغي أن یوٴذن علی المأذنة أو خارج المسجد ولا یوٴذن في المسجد"
ترجمہ: اذان مئذنہ یا مسجد کے باہر کہنا چاہیے مسجد کے اندر اذان کہنا جائز نہیں (فتاوی عالمگیری ج١ص٥٥)
فقیہ ملت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : خطبہ کی اذان داخل مسجد کہنا بدعت ہے (فتاوی فیض الرسول ج ١ ص ١٨١)
اقامت اگرچہ مثل اذان ہے لیکن
وہ مسجد کے اندر ہی کہنا چاہیے کیوں کہ فقہاۓکرام تصریح فرماتے ہیں کہ اذان کا مقصد غائبین کو نماز کے وقت کی خبر دینا ہے جبکہ اقامت کا مقصد مسجد کے حاضرین کو خبردار کرنا ہے کہ نماز شروع ہو رہی ہے جیساکہ شرح وقایہ اور السعادیہ میں ہے "والاذان لاعلام الغائبین" یعنی اذان غائبین کو نماز کے وقت کی خبر دینا ہے اور اقامت کے بارے میں ہے "لانہا لاعلام الحاضرین" یعنی اقامت مسجد میں موجود لوگوں کو نماز شروع ہونے کی خبر دینا ہے(السعایۃ ج٢ ص ۳۳)
مذکورہ بالا حدیث مبارکہ اور فقہی جزئیات کی روشنی میں معلوم ہوا کہ پنج وقتی اور خطبہ کی اذان مسجد کے باہر اور اقامت مسجد کے اندر کہنا سنت متوارثہ ہے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم کے زمانئہ مبارکہ سے اب تک یہی طریقہ چلا آرہا ہے اور اسی پر عمل کرنا لازم ہے
واللہ تعالٰی و رسولہ الاعلٰی اعلم بالصواب
عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم
کتبہ: سید محمد نذیرالہاشمی سہروردی داہود شریف الہند
بتاریخ ٢١ربیع الاول شریف١٤٤٧ھ
بمطابق١٤ستمبر٢٠٢٥ء
بروز یک شنبہ (اتوار)
[1/12, 1:35 PM] فیضان حضرت شیخ الشیوخ: السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماۓدین و مفتیان شرع متین درج ذیل مسئلے میں کیا وکیل بالنکاح بلا اجازت دوسرے کو نکاح کا وکیل بنا سکتا ہے؟
اگر دوسرا بلا اجازت نکاح پڑھا دے تو کیا نکاح منعقد ہو جاۓگا،نکاح میں کوئی خرابی تو لازم نہیں آۓگی؟
براہ کرم تفصیلی جواب عنایت فرمائیے!
المستفتی: حافظ عبدالرحمن اشرفی امام و خطیب عالمگیری مسجد داہود
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
واضح رہے کہ راجح اور مفتی بہ قول کے مطابق مؤکل یا مؤکلہ یا اس کے ولی کی اجازت کے بغیر وکیل بالنکاح دوسرے کو نکاح کا وکیل نہیں بنا سکتا
حضرت علامہ ابو الحسن علی بن ابی بكر الفرغانی المرغينانی(المتوفى: ٥٩٣ھ/١١٩٧ء) لکھتے ہیں:” وليس للوكيل أن يوكل فيما وكل به إلا أن يأذن له الموكل أو يقول له اعمل برأيك “
ترجمہ: وکیل کو بلا اجازت یہ حق نہیں کہ دوسرے کو اس بات کا وکیل کردے جس کی وکالت اس کے ذمہ کی گئ ہو البتہ مؤکل اس (وکیل) کو توکیل کی اجازت دے (تو ایسی صورت میں وہ دوسرے کو وکیل بنانا جائز ہے)یا اسے کہ دے کہ تم جیسا چاہو اپنی راۓ کے مطابق عمل کرو
(بداية المبتدي، كتاب الوكالة، ص١٦٢، مطبوعه: مكتبة ومطبعة محمد علي صبح القاهرة)
یہ مسئلہ بھی معلوم رہے کہ وکیل بالنکاح کو اگر صراحۃً یا دلالۃً توکیل یعنی دوسرے کو وکیل بنانے کی اجازت نہ ہو اور وہ دوسرے کو وکیل بنا دے تو اس وکیل ثانی کا پڑھایا ہوا نکاح فضولی ہوگا اور مذہب حنفی میں فضولی نکاح جائز ہوتا ہے اسے باطل جاننا محض جہالت ہے البتہ ایسا نکاح مؤکل یا مؤکلہ کی اجازت پر موقوف رہتا ہے اگر جائز کر دے تو نکاح نافذ ورنہ نہیں، خواہ اجازت صراحۃً ہو یا دلالۃً
چنانچہ سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:"وکیل بالنکاح کو شرعاً اتنا اختیار ہے کہ خود نکاح پڑھائے نہ کہ دوسرے کو پڑھانے کی اجازت دے جب تک ماذونِ مطلق یا صراحۃً دوسرے کو وکیل کرنے کا مجاز نہ ہو بغیر اس کے اگر اس نے دوسرے سے پڑھوایا توصحیح مذہب پر نکاح بلااذن ہوگا اگرچہ عقد اس (وکیل) کے سامنے ہی واقع ہو، بہر حال مذہب راجح پر یہ نکاح نکاح فضولی ہوتے ہیں اور نکاح فضولی کو مذہب حنفی میں باطل جاننا محض جہالت وفضول بلکہ بالاجماع ائمہ حنفیہ رضی اللہ تعالی عنہم منعقد ہوجاتا ہے اور اجازت اصیل پر (کہ یہاں وہ عورت ہے جس کے لیے بے اذن اس کا نکاح غیر وکیل نے کردیا) موقوف رہتا ہے اگر وہ اجازت دے نافذ ہوجائے اور رد کردے تو باطل
(فتاوی رضویہ، کتاب النکاح، ج١١ صفہ١٤٣ مطبوعه: رضا فاؤنڈیشن لاهور)
اگر مؤکل یا مؤکلہ وکیل کو صراحۃ یا دلالۃ خود نکاح پڑھانے یا دوسرے کو نکاح کا وکیل بنانے کی اجازت دے تو دوسرا وکیل نکاح پڑھا سکتا ہے صراحۃً یہ کہ مؤکل یا مؤکلہ یوں کہے "میں نے فلاں بن فلاں کو اپنے نکاح کا وکیل مطلق بنایا چاہے تو وہ خود میرا نکاح فلاں بن فلاں کے ساتھ اتنے حق مہر کے عوض پڑھا دے یا دوسرے کو وکیل بنا دے تاکہ وہ میرا نکاح فلاں بن فلاں کے ساتھ کردے" یا وکیل لڑکی سے خود کہے کہ کیا آپ مجھے اس کی اجازت دیتی ہے کہ میں آپ کا نکاح فلاں بن فلاں کے ساتھ اتنے حق مہر کے عوض کردوں یا کروادوں ؟
اور دلالۃً یہ کہ اس علاقہ یا بستی میں یہ معروف ہو کہ جو وکیل مؤکل یا مؤکلہ یا اس کے ولی سے نکاح کی اجازت لیتا ہے وہ خود نکاح نہیں پڑھتا بلکہ دوسرا پڑھاتا ہے تو یہ بھی عرفاً دلالۃً اجازت مانی جاۓگی، اور اس صورت میں مؤکل یا مؤکلہ کا وکیل بغیر کسی مخصوص شرط کے ہوگا اور اس طرح یہ وکالت مطلقہ ہوگی یعنی عام مشہور وکالت جسے سب جانتے ہوں کہ نکاح دوسرا پڑھاۓگا،،کیوں کہ اس طرح عرف و رواج کے مطابق وکیل بالنکاح کو بلا اجازت بھی ضمنی طور پر توکیل کا حق حاصل ہو جاتا ہے اور اپنی مرضی سے قابل وکالت شخص کو نکاح کا وکیل بنا سکتا ہے اور وکیل ثانی کے ذریعے پڑھایا جانے والا نکاح درست منعقد ہوجاتا ہے
جیساکہ ہمارے دادا استاذ فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی (المتوفی ١٤٢٣ھ/٢٠٠١ء) علیہ الرحمہ فتاوی رضویہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ" مگر جب کہ اس علاقہ میں یہ بات مشہور و معروف ہو کہ وکیل خود نہ پڑھائےگا بلکہ دوسرے سے پڑھوائے گا تو اذن کے ضمن میں دوسرے کو بھی اذن دینے کا عرفاً اذن مل گیا، فان المعروف کا لمشروط کما ھو من القواعد المقررۃ والفقھیۃ (جیسا کہ فقہی قواعد میں سے ہے کہ معروف مشروط ہی کی طرح ہوتا ہے) اور وکیل کو جب اذن توکیل ہو تو بیشک اسے اختیار ہے کہ خود پڑھائے یا دوسرے کو اجازت دے، اس تقدیر پر نکاح فضولی نہ ہوا بلکہ نافذ اور لازم واقع ہوا۔ مگر یہ اسی صورت میں ہوگا جبکہ اس طریقۂ نکاح کی شہرت ایسی عام ہو کہ کنواری لڑکیاں بھی اس سے واقف ہوں اور جانتی ہوں کہ وکیل خود نہ پڑھائےگا دوسرے سے پڑھوائےگا، والا لم یکن معروفًا عندھن فلایجعل کالمشروط فی حقھن (اور اگر یہ بات ان کے نزدیک معروف و مشہور نہیں تو ان کے حق میں مشروط نہیں بنے گی۔) یہ سب اس صورت میں ہے کہ وکیل اصلی نے نکاح کے بعد کوئی ایسا کلمہ نہ کہا جس سے اس نکاح کی اجازت ٹھہرے ورنہ خود اسی کے جائز کر دینے سے جائز ہو جائے گا اگرچہ اسے اذن توکیل نہ ہو ۔“
(فتاوی فیض الرسول، ج١ ص٥٠٦، ٥٠٧ مطبوعه: اکبر بک سیلرز لاہور)
واللہ تعالٰی و رسولہ الاعلی اعلم بالصواب عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم
کتبہ: سید محمد نذیرالہاشمی سہروردی داہود الہند
بتاریخ١٨ربیع الاول شریف ١٤٤٧ھ
بمطابق١٠ستمبر٢٠٢٥ء
بروز چہار شنبہ (بدھ)
[1/12, 1:35 PM] فیضان حضرت شیخ الشیوخ: کیا فرماتے ہیں علماۓ دین و شرع متین اس مسٸلہ کے بارے میں کہ نماز میں سجدہ کی حالت میں پاؤں کی انگلی کا پیٹ کا لگنا زمین پر شرط سجدہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ دونوں پاؤں کی کون کون اور کتنی ہیں ،وضاحت کے ساتھ بیان فرماٸیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
واضح رہے کہ حالت سجدہ میں دونوں پاؤں کی دس انگلیوں میں سے صرف ایک کا پیٹ زمین پر لگنا شرط ہے اور دونوں پاؤں کی تین تین انگلیوں کا پیٹ زمین پر لگانا واجب جبکہ دونوں پاؤں کی ساری انگلیوں کے پیٹ زمین پر لگانا اور قبلہ رو ہونا سنت مبارکہ ہے،پس تو اگر حالت سجدہ میں کسی کے دونوں پیر بلا عذر شرعی زمین سے اٹھے رہے یا صرف انگلیوں کے سرے زمین پر لگاۓ, تو اس صورت میں نماز فاسد ہوگی،اور اگر ایک یا دو انگلیوں کا پیٹ زمین پر لگارہے تو فرض ادا ہوجاۓگا لیکن واجب ادا نہ ہوگا کیوں کہ دونوں پاؤں کی تین تین انگلیوں کا پیٹ زمین پر بچھانا واجب ہے اس لیے اس طرح ادا کی جانے والی نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی،
ردالمحتار میں حضرت علامہ شامی قادری نقشبندی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:"(ومنها السجود) بجبهته وقدميه، ووضع إصبع واحدة منهما شرط"
ترجمہ:(نماز کی شرائط میں سے ایک شرط) سجدہ ہے اور سجدہ پیشانی کا (زمین پر جمانا) اور دونوں قدموں کا رکھنا ہے اور ایک انگلی کا (زمین پر) بچھانا شرط ہے
مزید فرماتے ہیں:"فیه يفترض وضع اصابع القدم ولوواحدة نحوالقبلة والالم تجزوالناس عنه غافلون"
ترجمہ:پیر کی انگلیوں میں سے کسی ایک انگلی کا (زمین پر) بچھانا اور قبلہ رخ ہونا فرض ہے ورنہ نماز نہ ہوگی اور لوگ اس سے غفل ہیں
(ردالمحتار ج ١ ص ٣١٣، ٣٥١ )
امام اہلسنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:"حالت سجدہ میں قدم کی دس انگلیوں میں سے ایک کے باطن پر اعتماد مذہب معتمد اور مفتی بہ میں فرض ہے اور دونوں پاؤں کی تمام یا اکثر انگلیوں پر اعتماد بعید نہیں کہ واجب ہو اس بنا پر جو حلیہ میں ہے اور قبلہ کی طرف متوجہ کرنا بغیر کسی انحراف کے سنت ہے"
(فتاوی رضویہ ج٧ ص٣٧٦رضا فاؤنڈیشن لاہور)
صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمتہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:"پیشانی کا زمین پر جمنا سجدے کی حقیقت ہے اور پاؤں کی ایک انگلی کا پیٹ لگنا شرط تو اگر کسی نے اس طرح سجدہ کیا کہ دونوں پاؤں زمین سے اٹھے رہے نماز نہ ہوئی بلکہ اگر صرف انگلی کی نوک زمین سے لگی جب بھی نہ ہوئی اس مسئلہ سے بہت لوگ غافل ہیں,,
مزید فرماتے ہیں سجدہ میں دونوں پاؤں کی دسوں انگلیوں کے پیٹ زمین پر لگنا سنت ہے اور ہر پاؤں کی تین تین انگلیوں کے پیٹ زمین پر لگنا واجب اور دسوں کا قبلہ رو ہونا سنت ہے,,
(بہار شریعت ج١ ح٣ ص ٥١٣، ٥٣٠ -مکتبۃ المدینہ)
البتہ دونوں پیروں کی تین تین انگلیوں میں سے کوئی ایک انگلی بھی تین بار سبحان ربی الاعلٰی کہنے کی مقدار اٹھی رہی اور اسی اثنا درست نہ کرے تو نماز واجب الاعادہ ہوگی،لیکن اگر بھول کر دو انگلیوں کا پیٹ زمین پر لگے تو سجدہ سہو کر لینے سے نماز ہوجاۓگی کیوں کہ نماز کے واجبات میں سے کوئی جواب سہواً ترک ہوجاۓ تو سجدہ سہو کر لینے سے نماز ہوجاتی ہے،
بحرالعلوم حضرت علامہ مفتی عبدالمنان کلیمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:"سجدے کے اندر ہر پیرکی کم از کم تین انگلیوں کا پیٹ زمین پر لگناواجب ہے,, جس میں انگوٹھا بھی شامل ہے اگر تین بار سبحان رہی الاعلٰی کہنے کی مقدار تک تین میں سے کوئی اٹھی رہ گئی تونمازمکروہ تحریمی قابل اعادہ ہوگی"
(فتاویٰ بحرالعلوم کتاب الصلوۃ ج١ ص٢٩٥)
واللہ تعالٰی و رسولہ الاعلٰی اعلم بالصواب عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم
کتبہ: سید محمد نذیرالہاشمی سہروردی
داہود شریف گجرات
بتاریخ٢٥ربیع الاول شریف١٤٤٧ھ
بمطابق١٨ستمبر٢٠٢٥ء
بروز جمعرات
[1/12, 1:35 PM] فیضان حضرت شیخ الشیوخ: کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان شرع دیں اس مسٸلہ میں کہ اگر کوئی فرد اذان پڑھ رہا ہو اور حی علی الصلاہ کہ کرکے دوسری بار حی علی الفلاح کہ دے یعنی حی علی الصلاہ ایک ہی بار کہا تو کیا اذان کو دہرانا پڑےگی؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
اذان کہتے ہوۓ اگر کوئی فرد حی علی الصلاۃ کہ کر دوسری بار حی علی الفلاح کہ دے یعنی حی علی الصلاۃ ایک ہی بار کہا تو چاہیے کہ اتنے الفاظ (حی علی الصلوۃ) کا اعادہ کرلے،اور اس کے بعد پھر حی علی الفلاح دو بار کہے،لیکن اگر اس کا اعادہ نہ کیا اور اذان پوری کرلی تو اب سرے سے اذان دہرانے کی حاجت نہیں!
فتاوی شامی میں ہے "کما لو قدم الفلاح علی الصلاة یعیده فقط أي ولایستأنف الأذان من أوله" الخ
ترجمہ: جیساکہ اگر کوئی (حی علی) الفلاح کو (حی) علی الصلوۃ پر مقدم کردے تو صرف اتنا ہی لوٹاۓ از سرنو پوری اذان نہ کیے( فتاوی شامی: ۱/ ۳۶۱)
صدرالشریعہ حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں : "اگر کلمات اذان و اقامت میں کسی جگہ تقدیم و تاخیر ہوگئ تو اتنے کو صحیح کرلے سرے سے اعادے کی حاجت نہیں اور اگر صحیح نہ کیے اور نماز پڑھ لی تو نماز کے اعادے کی حاجت نہیں۔( بہار شریعت حصہ ٣ ص ٤٦٩ )
واللہ تعالٰی و رسولہ الاعلٰی اعلم بالصواب عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم
کتبہ:سید محمد نذیرالہاشمی سہروردی
داہود شریف الہند
بتاریخ ٢٤ربیع الاول شریف١٤٤٧ھ
بمطابق١٧ستمبر٢٠٢٥ء
بروز چہار شنبہ (بدھ)
[1/12, 1:35 PM] فیضان حضرت شیخ الشیوخ: السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماۓکرام و مفتیان ذوی الاحترام اس مسئلے میں کہ زید خود کو سنی کہتا ہے لیکن اس نے حضرت امیر معاویہ کی شان میں مندرجہ ذیل گستاخانہ الفاظ استعمال کیے ہیں،معاویہ مردہ باد،، معاویہ سے نسبت رکھنا بھی گناہ ہے جس نے حضرت علی سے جنگ کی ان کی آل سے جنگ کی لفظ خبیث بھی استعمال کیا ہے ،،وہ صحابی نہیں جہنمی ہے معاویہ نے مولی حسین کو قتل کروایا ہے حضرت زینب کے سر سے حجاب چھینا بخاری میں لکھا ہے مظلوموں کو رلا کے صحابی بن گۓ اللہ جہنم نصیب کرے معاویہ کو چھوڑو اور حق راہ پر آؤ ایک شخص سے کہا تو مرےگا تو دیکھےگا معاویہ کو جہنم میں اور معاویہ کیا تیرا باپ ہے کھلی گالی بکی ایک دیوبندی کی ویڈیو شیر کی جس کا ٹائٹل یہ ہے ایک والد نے اہلبیت کو گالیاں دیں اور بیٹے نے اہلبیت کو قتل کیا،نیز امام اہلسنت کے ماننے والے کو کہا تم اعلی والوں کو کچھ نہیں آتا سواۓ جاہل جاہل کرنے کے اور علما کو بھی گالی دی دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسے شخص پر حکم شرع کیا لگےگا جواب عنایت فرمائیے
المستفتی: محمد زاہد بن صابر لوہار داہود گجرات
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
واضح رہے کہ قرآن و حدیث میں صحابئہ کرام و اہلبیت اطہار کے فضائل و محامد بیان کیے گۓ ہیں اور ان کی گستاخی کرنے کو سخت ناجائز و حرام اور فسق و بدعت،بد مذہبی اور گمراہی قرار دیا گیا ہے،دیگر صحابہ کی طرح حضرت امیر معاویہ بھی واجب التعظیم ہیں اہلسنت و جماعت کے نزدیک تمام صحابہ کا ذکر خیر ہی کے ساتھ کرنا لازم ہے،لھذا بر صدق مستفتی زید حضرت امیر معاویہ کی شان میں مذکورہ نازیبا و گستاخانہ الفاظ استعمال کرکے اور علماۓکرام کو گالی دے کر سخت گنہگار،مستحق عذاب نار اور فاسق و فاجر ہوا، اگر زید نے اعلانیہ طور پر مذکورہ الفاظ استعمال کیے ہیں تو اس پر لازم ہے کہ فوراً اعلانیہ توبہ کرے اور اپنے الفاظ سے رجوع کرے،مذکورہ شخص جب تک توبہ نہ کرے تو اہل بستی پر لازم ہے کہ اس کے ساتھ سلام و کلام بلکہ کسی قسم کا کوئی تعلق روا نہ رکھیں،چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے:”وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ
“ترجمہ: اورجو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(پارہ٧،سورۃ الانعام ،آیت٦٨)
اس آیت کے تحت تفسیرات احمدیہ میں ہے’’ھم المبتدع والفاسق والکافر والقعود مع کلھم ممتنع ‘‘
ترجمہ: ظالم لوگ بدمذہب اور فاسق اور کافر ہیں، ان سب کے پاس بیٹھنا منع ہے۔( التفسیرات الاحمدیہ ،صفحہ ٣٨٨،مطبع کریمیہ، بمبئی )
تمام صحابئہ کرام (جن میں امیر معاویہ بھی شامل ہیں) جنتی ہیں اور ان کا جنتی ہونا قرآن و حدیث سے ثابت ہے چنانچہ قرآن شریف میں ہے "وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ"(١٠)
ترجمہ: اور ان سب (صحابہ) سے اللہ نے سب سے اچھی چیز (جنت) کا وعدہ فرمالیا ہے
(القرآن سورۃالحدید پ ٢٧،ع ١٧آیت ١٠)
صحابئہ کرام کے بارے میں صحیح البخاری میں ہے: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ، ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلاَ نَصِيفَهُ»
ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے کہ میرے صحابہ کو گالی مت دو، پس اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ جتنا سونا خيرات کرے تو وہ ان کے ایک مُد یا آدھا مُد خيرات کرنے کو نہیں پہنچ سکتا ہے۔
(البخاري ,صحيح البخاري ,٥/ ٨)
جامع ترمذى میں ہے:"عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي"
ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو، میرے بعد ان کو (اعتراضات )کا نشانہ نہ بنانا۔(الترمذي، محمد بن عيسى، سنن الترمذي ت شاكر، ٦٩٦/٥)
حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں:"لا تسبوھم لعن اللہ من سبھم"
یعنی صحابی کو گالی نہ دو نہ ان کو برابھلا کہو جو شخص ان کو گالی دے اور برا بھلا کہے اس پر اللہ کی لعنت ہو (الشرف المؤبد ص ١٠٢)
حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں :"اکرمو اصحابی فانھم خیارکم"
ترجمہ: میرے صحابہ کی عزت کرو اس لیے کہ وہ تم میں سب سے بہتر ہیں (مشکوۃ شریف ص ٥٥٤)
حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں :"اللہ تعالٰی نے مجھے منتخب فرمایا ہے میرے لیے اصحاب منتخب فرماۓ اور میرے لیے ان میں سے وزراء، انصار اور خسر بناۓ فمن سبھم فعلیہ لعنۃاللہ والملائکۃ والناس اجمعین لا یقبل اللہ منہ صرفاً و لا عدلاً (رواہ الطبرانی)
یعنی جو شخص انہیں گالی دے اور برا بھلا کہے اس پر اللہ تعالٰی،فرشتوں ،اور سارے انسانوں کی لعنت،اللہ تعالٰی اس کا نہ فرض قبول فرماۓگا اور نہ نفل (الشرف المؤبد ص ١٠٢)
حضور صلی اللہ تعالٰی ارشاد فرماتے ہیں :"اذا رایتم الذین یسبون اصحابی فقولو لعنۃاللہ علی شرکم"
یعنی جب تم ان کو دیکھو کہ میرے صحابہ کو گالیاں دیتے ہوں اور ان کو برا بھلا کہتے ہوں تو کہو تمہارے شر پر اللہ تعالٰی کی لعنت
(مشکوۃ شریف ص ٥٥٤)
حضرت امیر معاویہ صحابی ہیں چنانچہ صحیح بخاری میں ہے:"عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: أَوْتَرَ مُعَاوِيَةُ بَعْدَ العِشَاءِ بِرَكْعَةٍ، وَعِنْدَهُ مَوْلًى لِابْنِ عَبَّاسٍ، فَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: دَعْهُ فَإِنَّهُ قَدْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ: ابن ملیکہ سے مروی ہے: آپ کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے عشا کے بعد ایک رکعت وتر پڑھی اس وقت آپ کے پاس حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے غلام حاضر تھے جب وہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کی بارگاہ میں آۓ تو حضرت امیر معاویہ کا واقعہ عرض کیا تو آپ نے فرمایا: معاویہ کا معاملہ چھوڑ دو کہ وہ صحابی رسول ہیں۔(البخاري ,صحيح البخاري ,٥/ ٢٨)
حضرت علامہ قاضی عیاض علیہ الرحمہ لکھتے ہیں حضرت معافی بن عمران علیہ الرحمہ سے ایک شخص نے کہا حضرت عمر بن عبدالعزیز حضرت امیر معاویہ سے افضل ہیں یہ سنتے ہی علامہ ابن عمران غضب ناک ہوگۓ اور فرمایا"لا یقاس احد باصحاب النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم معاویۃ صاحبہ و صھرہ و کاتبہ و امینہ علی وحی اللہ عزوجل
یعنی حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم کے صحابہ پر کسی کو قیاس نہ کیا جاۓگا معاویہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم کے صحابی ان کے سالے ان کے کاتب اور خدا عزوجل کی وحی پر حضور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم کے امین ہیں ( الناہیہ ص ١٧)
امیر معاویہ صحابی ہے اور کسی صحابی کی شان میں گستاخی کرنا فسق و بدعت ہے چنانچہ شرح عقائد میں ہے”فسبھم و الطعن فیھم ان کان مما یخالف الادلۃ القطعیۃفکفر کقذف عائشۃ والا فبدعۃ وفسق و بالجملۃ لم ینقل عن السلف المجتھدین والعلماء الصالحین جواز اللعن علی معاویۃ“
ترجمہ:صحابہ کرام علیہم الرضوان کی شان میں گالی و طعن اگر دلیل قطعی کے مخالف ہو جیسے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا پر قذف کی تہمت لگانا،تو وہ کفر ہے اور اس کے علاوہ (صحابئہ کرام کی شان میں گستاخی)فسق و بدعت ہے،حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پر لعن طعن کرنے کا جواز ائمہ مجتہدین اور علماء صالحین سے نہیں ملتاہے ۔(شرح عقائد ،ص٣٣٨مکتبۃ المدینہ ،کراچی)
حضرت امیر معاویہ نیز تمام صحابہ کو عادل جاننا ضروری ہے جیساکہ المسامرة میں ہے:"(واعتقاد اهل السنة)و الجماعة (تزكية جميع الصحابة)رضي الله عنهم وجوبا بإثبات العدالة لكل منهم والكف عن الطعن فيهم"
ترجمہ: اہل سنت و جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ تمام صحابہ کو عادل ماننا،ان کی پاکیزگی بیان کرنا اور ان کے متعلق طعنہ زنی سے باز رہنا ضروری ہے۔
(المسامرۃ شرح المسایرہ، الرکن الرابع، الاصل الثامن، ص ٢٥٩ ،دار الکتب العلمیة)
حضرت امیر معاویہ پر لعن طعن کرنے والا اور آپ کو جہنمی کہنے والا خود جہنمی کتا ہے جیساکہ نسيم الرياض میں ہے:"ومن يكن يطعن في معاوية فذاك كلب من كلاب الهاوية"
ترجمہ: جو حضرت معاويہ کے متعلق طعنہ زنی کرے وہ جہنم کا ایک کتا ہے (نسيم الرياض ج٤، ص ٥٢٥ دار الكتب العلمية)
صحابی کو گالی دینا اور خبیث کہنا گمراہی ہے چنانچہ رد المحتار میں ہے:"اتَّفَقَ الْأَئِمَّةُ عَلَى أنّ سَبّ أَحَدٍ مِنْ الصَّحَابَةِ وَبُغْضهُ لَا يَكُونُ كُفْرًا، لَكِنْ يُضَلَّلُ إلَخْ.
ترجمہ: ائمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ کسی صحابی رسول کو گالی دینا اور ان سے بغض رکھنا کفر تو نہیں مگر گمراہی ہے
(رد المحتار ٢٣٧/٤)
اس میں شک نہیں کہ یزید پلید کے حکم سے اہلبیت اطہار پر ظلم و ستم کیا گیا اور انہیں تہ شہید کیا گیا لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ بیٹے کے ساتھ باپ کو بھی مورد الزام ٹھہیرایا جاۓ لھذا زید کا یہ کہنا کہ امیر معاویہ نے امام حسین کو قتل کروایا اور سیدہ بی بی زینب کے سر سے حجاب چھینا اور اہلبیت کو گالیاں دیں وغیرہ وغیرہ تو یہ محض بے بنیاد الزام ہے اور قرآن و حدیث کی رو سے غلط و بے بنیاد الزام لگانے والا سخت گنہگار، مستوجب قہر قہار اور مستحق عذاب نار ہوتا ہے اور کسی صحابی پر الزام لگانا تو اس سے بھی زیادہ سخت گناہ اور گمراہی و بے دینی ہے!،مؤمن پر بے جا الزام لگانے کے متعلق حضور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:"وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ, أَسْكَنَهُ اللَّهُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ، حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ”
ترجمہ: جس نے کسی مؤمن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہیں تھی تو اللہ تعالی اسے جہنمیوں کی پیپ میں ڈالے گا حتی کہ وہ اپنی بات سے باز آجاۓ”۔
(سنن ابو داؤد: ٣٥٩٧)
مسلمان کو گالی دینا حدیث مبارک کی رو سے حرام قطعی اور علما کو گالی دینا تو اس سے بھی زیادہ سخت ہے اگر علما کو آپسی رنجش کی بنا پر گالی دی ہے تو گالی دینے والا گنہگار ہوا اگر علم دین کی وجہ سے گالی دی ہے تو گالی دینے والا کافر ہوا،چنانچہ ردالمحتار میں یے،فلو بطریق الحقارۃ کفر، لأن ٳهانة أهل العلم کفر۔
یعنی:(عالم دین کی ) بطریق حقارت توہین کرنا کفر ہے اس لیے کہ اہل علم کی اہانت کفر ہے۔(ردالمحتار ۴/۷۲)
سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں؛"کسی عالم دین کی توہین اگر علم کی وجہ سے کیا ہے تو وہ کافر ہے اور اگر بوجہ علم اس کی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کسی دنیوی خصومت کے باعث برا کہتا ہے تو سخت فاسق وفاجر ہے اور اگر بے سبب رنج رکھتا ہے تو مریض القلب خبیث الباطن ہے اور اس کے کفر کا اندیشہ ہے ۔(فتاویٰ رضویہ ج ۱، ص ۵۷۱)
اسی میں ہے اگر علمائے دین کو اس لئے برا کہتا ہے کہ وہ عالم ہے جب تو صریح کفر ہے ۔( فتاویٰ رضویہ، ج ۹ ، ص ۱۴۰)
اگے فرماتے ہیں کہ مجمع الانہر میں ہے من قال لعالم عویلم استخفافافقد کفر جو کسی عالم کو مولویا تحقیر کے لئے کہے وہ کافر ہے ۔( فتاویٰ رضویہ ، ج ۹، ص ۱۳۱، ومجمع الانہر ، ج ۱، ص ۶۹۵)
الانتباہ: اگر زید نے اعلانیہ طور پر مذکورہ بالا گستاخانہ الفاظ بولے ہیں اور علماۓکرام کو گالی دی ہےتو زید اعلانیہ توبہ کرے اگر چند لوگوں کی موجودگی میں مغلظات بکا ہے تو اتنے لوگوں کی موجودگی میں توبہ کرلے تو اس سے سلام و کلام کرنا اسے گھر جانا دعوت قبول کرنا جائز ورنہ بصورت دیگر اہل بستی اس کا بالکلیہ مقاطعہ کریں اور جو اس کا ساتھ دے تو اس کے ساتھ بھی تعلقات نہ رکھیں
واللہ تعالٰی و رسولہ الاعلٰی اعلم بالصواب عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم
✍🏻:سید محمد نذیرالہاشمی سہروردی داہود شریف الہند
بتاریخ ٢٧ربیع الاول شریف ١٤٤٧ھ. بمطابق ١٩ستمبر٢٠٢٥ء
بروز جمعہ
[1/12, 1:35 PM] فیضان حضرت شیخ الشیوخ: کیا فرماتے ہیں علماے دین و شرع متین اس مسٸلئہ ذیل میں کہ نماز ختم ہوتے ہی جو دعا مانگی جاتی ہے کیا وہ سنت موکدہ ہے؟ تو صرف فرض جماعت کے بعد یا منفرد کے لیے بھی سنت ہے نیز یہ بھی ارشاد فرماٸیں کہ نماز سنن و نوافل کے بعد بھی دعا کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے تفصیل کے ساتھ رقم فرماٸیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
واضح رہے کہ فرض نماز کے بعد دعائیں قبول ہوتی ہیں،لھٰذا فرض نماز ختم ہوتے ہی اجتماعی یا انفرادی طور پر دعا کرنا سنت مستحبہ ہے اور سنن و نوافل کے بعد بھی دعا کرنا امر مستحسن ہے اس لیے سنن و نوافل کے بعد بھی دعا کرنا چاہیے،البتہ اس بات کا خیال رہے کہ امام صاحب اس قدر طویل دعا نہ کریں کہ مقتدیوں پر گراں گزے،ہاں منفرد کو اختیار ہے جس قدر چاہے طویل دعا کرے
اجتماعی دعا کے بارے میں حدیث مبارک میں ہے:”عن حبيب بن مسلمة الفهري سمعت رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم يقول لا يجتمع ملأ فيدعو بعضهم ويؤمن سائرهم إلا أجابهم اللہ“
ترجمہ: حضرت حبیب بن مسلمہ الفہری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب لوگ جمع ہو اور ان میں سے کوئی ایک دعا کرے اور باقی اس دعا پر آمین کہیں تو اللہ تعالٰی ان کی دعا قبول فرماتا ہے
(المعجم الکبیر ، حبیب بن مسلمہ ، ج ٤،ص ٢١،مطبوعہ القاھرہ)
سنن و نوافل کے بعد دعا کرنے کے بارے میں ردالمحتار میں ہے:"واما ما ورد من الاحاديث فی الاذكار عقيب الصلاة فلا دلالۃ فيه على الاتيان بها قبل السنة بل يحمل علی الاتیان بها بعْدها"
ترجمہ: اور جہاں تک احادیث میں نماز کے بعد ہونے والے(طویل) اذکار کا بیان ہے تو یہ فرض کے بعد سنت سے پہلے (کی جانے والی دعاؤں) پر دلالت نہیں کرتا بلکہ نماز سنت کے بعد (کی جانے والی دعاؤں اور اذکار) پر محمول کیا جاۓگا،(ردالمحتار ج ١ ص٥٣٠)
فتاوی شارح بخاری میں ہے:"اس (دعاۓثانی) کے ثبوت کے لیے یہی کافی ہے کہ اللہ عز وجل نے ارشاد فرمایا: ’’ فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ ‘‘ جلالین میں اس کی تفسیر یہ ہے۔ فإذا فرغت من الصلاۃ فارغب في الدعا۔ کہ جب نماز سے فارغ ہو جا ؤ تو دعاؤں میں خوب کوشش کرو۔ اور ظاہر ہے کہ نماز سے مکمل فراغت سنن ونوافل کے بعد ہوتی ہے
اور اللہ تبارک و تعالی کلامِ بلیغ میں ارشاد فرماتا ہے
وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ-اِنَّ (60)
ترجمہ:اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا
فرض نمازوں کے بعد دعا کرنا چاہیے کیوں کہ دعا قبول ہوتی ہے جیساکہ:” عن أبي أمامة، قال: قيل يا رسول اللہ: أي الدعاء أسمع؟ قال: جوف الليل الآخر، ودبر الصلوات المكتوبات“
ترجمہ: حضرت ابوامامہ رضی اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں عرض کی کہ کون سی دعا سب سے زیادہ سنی جاتی ہے؟ (یعنی جلد قبول ہوتی ہے) حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا : رات کے آخری پہر میں کی گئی دعائیں اور فرض نمازوں کے بعد کی گئی دعائیں ۔(ترمذی ، ابواب الدعا ء ،ج ٤ص ٤٠٤ ،مطبوعہ بیروت )
واللہ تعالٰی و رسولہ الاعلٰی اعلم بالصواب عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم
کتبہ: سید محمد نذیرالہاشکی سہروردی
داہود شریف الہند
بتاریخ٢٧ربیع الاول شریف١٤٤٧ھ
بمطابق١٩ستمبر٢٠٢٥ء
بروز جمعہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں