کربلا
`حسنین کریمین کی خوشی میں فاروق اعظم کی خوشی`
فیضان فاروق اعظم ج 1 ص 388
حضرت سید نا امام جعفر صادق رَضِيَ اللهُ تعال عنہ اپنے والد گرامی حضرت سیدنا امام محمد باقِر رَضِيَ اللهُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت سید نا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس یمن سے کچھ عمدہ کپڑے آئے تو آپ رَضِی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ کپڑے مہاجرین و انصار میں تقسیم کر دیئے۔ لوگ ان کپڑوں کو پہن کر بہت فرحت (خوشی) محسوس کر رہے تھے ، آپ رضی اللہ تعالی عنہ منبر رسول اور قبر انور کے درمیان تشریف فرما تھے، لوگ آپ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور آپ کو سلام کرتے اور دعائیں دیتے ۔ اچانک آپ رَضِيَ اللهُ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے شہزادئ کونین کے کاشانہ اقدس سے حسنین کریمین رضی اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا باہر تشریف لائے کیونکہ سیدہ فاطمۃ الزہراء رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عنها کا گھر مسجد نبوی کے صحن ہی میں تھا۔ دونوں شہزادوں کے جسموں پر ان عمدہ کپڑوں میں سے کوئی کپڑا نہیں تھا۔ جیسے ہی آپ رَضِيَ اللهُ تعالی عنہ نے شہزادوں کو دیکھا تو آپ کے تیور تبدیل ہو گئے ، ماتھے پر شکن پڑ گئے ، آپ نے جلال میں آکر ارشاد فرمایا:( وَاللَّهِ مَا هَنَانِي مَا كَسَوْتُكُمْ) یعنی الله عزوجل کی قسم ! میں نے جو تم لوگوں کو قیمتی کپڑے پہنائے ہیں انہیں دیکھ کر مجھے ذرہ برابر بھی خوشی نہیں ہوئی ۔ سب لوگ یہ سن کر حیران و پریشان ہو گئے اور عرض کرنے لگے کہ حضور ایسی کیا بات ہوگئی جو آپ رَضِی اللہ تعالی عنہ یہ ارشاد فرما رہے ہیں؟ حالانکہ یہ تمام کپڑے آپ رَضِيَ اللهُ تَعَالٰی عَنْه نے خود ہی عطا فرمائے ہیں ، ارشاد فرمایا: " مِنْ أَجْلِ الْغُلَامَيْنِ يَتَخَطَّيَانِ النَّاسَ لَيْسَ عَلَيْهِمَا مِنْهُمَا شَيْ : یعنی یہ بات میں ان دونوں شہزادوں کی وجہ سے کہہ رہا ہوں ، جو لوگوں کے درمیان اس حالت میں چل رہے ہیں کہ ان دونوں نے ان قیمتی کپڑوں میں سے کوئی کپڑا پہنا ہوا نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ : ثُمَّ كَتَبَ إِلَى صَاحِبِ الْيَمَنِ أَنْ أَبْعَثَ إِلَيَّ بِخَلَّتَيْنِ لِحَسَنٍ وَ حُسَيْنٍ وَعَجِّل یعنی آپ رَضِيَ اللهُ تَعَالٰی عَنْہ نے فوراً حاکم یمن کو خط لکھا کہ جلد از جلد امام حسن اور امام حسین رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا کے لیے دو بہترین اور قیمتی حُلٌِے (کپڑے) تیار کروا کے بھیجو۔ حاکم یمن نے فوراً حکم کی تعمیل کی اور دو حلے(کپڑے) تیار کروا کے بھیج دیے۔ آپ رَضِيَ اللهُ تعالی عنہ نے حسنین کریمین کو وہ جوڑے پہنائے اور مسرور ہو کر ارشاد فرمایا: لَقَدْ كُنْتُ أَرَاهَا عَلَيْهِمْ فَمَا يَهْنِبْنِي حَتَّى رَأَيْتُ عَلَيْهِمَا مِثْلَهَا یعنی الله عزوجل کی قسم ! جب تک ان دونوں شہزادوں نے نئے کپڑے نہیں پہنے تھے مجھے دوسروں کے پہنے کی کوئی خوشی نہ تھی ۔“ ایک روایت میں یوں ہے کہ حسنین کریمین رضی اللہ تَعَالٰی عَنْهُمَا کو کپڑے پہنا کر آپ رَضِيَ اللهُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا : الآنَ طَابَتْ نَفْسِي یعنی اب میں خوش ہو گیا ہوں ۔
`حضرت سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ کی کرامت،`
`حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء ج 3 ص 196`
حضرت سیدنا ابن شہاب زہری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں: جس دن حضرت سیدنا علی بن حسین رحمة الله تعالى عَلَيْهِنا کو مدینہ منورہ سے ملک شام عبد الملک بن مروان کے پاس لے جایا جا رہا تھا میں وہاں موجود تھا، آپ لوہے کی بیڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے، آپ کی پہرہ داری پر کئی لوگ مقرر تھے، میں نے ان سے آپ کو سلام کرنے اور الوداع کہنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت دے دی گئی، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک خیمہ میں قید تھے، پاؤں میں بیڑیاں اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں، آپ کو اس حال میں دیکھ کر میں نے روتے ہوئے عرض کی: کاش! آپ کے بدلے مجھے قید کر دیا گیا ہوتا اور آپ سلامت ہوتے۔ حضرت سیدنا علی بن حسین رحمة الله تعالی علیہ نے فرمایا : اے زہری! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں اس حالت میں اذیت (تکلیف) میں ہوں؟ اگر میں چاہوں تو یہ فوراً کھل جائیں، یہ چیزیں تو ہم جیسے لوگوں کو الله تعالیٰ کا عذاب یاد دلاتی ہیں۔ یہ کہہ کر آپ نے بیڑیوں اور ہتھکڑیوں سے خود کو آزاد کرتے ہوئے فرمایا: "اے زہری ! میں اس حالت میں مدینہ منورہ سے دو منزل سے زیادہ نہیں چلوں گا۔ “ حضرت سیدنا ابن شہاب زہری رحمۃ اللہ عَلَيْهِ بیان کرتے ہیں: ابھی چار راتیں ہی گزری تھیں کہ ان پر مقرر پہرے دار انہیں تلاش کرنے کے لئے مدینہ منورہ پہنچ گئے لیکن انہوں نے آپ کو نہ پایا، میں نے پہرہ داروں سے ان کے بارے میں پوچھا تو ایک نے مجھے بتایا کہ ہم ان کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے، ایک جگہ پڑاؤ کیا، ہم ان کے ارد گرد پہرہ دیتے رہے ، ہم میں سے کوئی بھی نہ سویا، صبح ہوئی تو ان کے کجاوے میں لوہے کے سوا ہم نے کچھ نہ پایا۔ حضرتِ سیدنا ابن شہاب زہری رَحمة الله علیہ فرماتے ہیں: اس کے بعد میں عبد الملک بن مروان کے پاس گیا، اس نے مجھ سے حضرت سیدنا علی بن حسین رَحْمَةُ اللهِ تَعَالی عَلَيْهِمَا کے بارے میں پوچھا تو میں نے اسے سارا واقعہ بتا دیا۔ اس نے مجھ سے کہا: جس دن وہ پہرہ داروں سے گم ہوئے تھے اس دن میرے پاس آئے تھے، مجھ سے فرمانے لگے: یہاں نہ میں رہوں گا نہ تم۔ (یعنی ہمیشہ اس دنیا میں نہ میں رہوں گا اور نہ تم) میں نے کہا: میرے پاس ٹھہریئے! فرمایا: مجھے یہ پسند نہیں۔ پھر تشریف لے گئے۔ اللہ عزوجل کی قسم ! میں خوف کی وجہ سے کاپنے لگا۔ حضرت سیدنا ابن شہاب زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے اس سے کہا: اے خلیفہ ! حضرت سیدنا علی بن حسین رحمة الله تعالى عَلَيْهِنا ایسے نہیں ہیں جیسا تم سوچتے ہو وہ تو اپنے آپ میں مشغول ہیں۔ عبد الملک بن مروان نے کہا: ان کی مشغولیت کتنی اچھی ہے۔ حضرت سید نا ابن شہاب زہری رحمۃ اللہ علیہ انہیں جب بھی ان کا تذکرہ کرتے تو رو پڑتے اور انہیں ” زین العابدین“ کے لقب سے یاد فرماتے ،
`حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ سے گریہ و زاری کا سبب پوچھا گیا ؟`
`سنن دار قطنی مصنف امام ابو الحسن علی بن عمر دارقطنی متوفی 385 ہجری`
_امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں امام زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ سے ان کی بکثرت گریہ و زاری (زیادہ رونے) کا سبب دریافت (معلوم) کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: تم لوگ مجھے ملامت نہ کرو۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے تو صرف ایک صاحبزادے (حضرت یوسف علیہ السلام) لاپتہ ہوئے تھے۔ اور وہ اتنا روتے رہے کہ ان کی بینائی (آنکھوں کی روشنی) رخصت ہوگئی حالانکہ انہیں یہ پتہ نہیں چلا تھا کہ وہ صاحبزادے فوت ہو چکے ہیں (یا نہیں؟) جبکہ میں نے اپنے خاندان کے چودہ افراد کو ایک ہی موقعہ پر شہید ہوتے ہوئے دیکھا ہے کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ ان کا دکھ میرے دل سے ختم ہو جائے گا ؟
`ماہ محرم سے متعلق انتہائی نصیحت امیز گفتگو،`
`البدایہ والنہایہ المعروف تاریخ ابن کثیر ج 8 ص 409/410`
_چاہیے کہ ہر مسلمان آپ کے قتل (شہادت) سے غمگین ہو بلا شبہ آپ سادات المسلمین اور علماء و صحابہ میں سے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُس بیٹی کے بیٹے تھے جو آپ کی بیٹیوں میں سے افضل تھی ، اور آپ عبادت گزار ، دلیر اور سخی تھے لیکن شیعہ جس طریق پر بـے صبری سے غم کا اظہار کرتے ہیں وہ مناسب نہیں اور شاید اس کا اکثر حصہ تصنع(چھوٹی محبت) اور ریا (دکھاوا) ہے اور آپ کے والد (حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ) آپ سے افضل تھے وہ بھی قتل (شہید) ہوئے ہیں ، اور وہ حضرت امام حسین کے قتل (شہادت) کے دن کی طرح ان کے قتل (شہادت) کا ماتم نہیں کرتے ، بلا شبہ آپ کے والد محترم (حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ)۔ 17 رمضان کو جمعہ کے روز فجر کی نماز کو جاتے ہوئے قتل (شہید) ہوئے تھے۔ اور اسی طرح حضرت عثمان بھی قتل ہوئے تھے جو اہل السنۃ والجماعت کے نزدیک حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے افضل تھے ، آپ ماہ ذو الحجہ کے ایام التشریق میں اپنے گھر میں محصور ہو کر قتل(شہید) ہوئے تھے ، آپ کی شہ رگ کو قطع کیا گیا اور لوگوں نے آپ کے قتل کے روز کو ماتم کا دن نہیں بنایا ، اور اسی طرح حضرت عمر بن الخطاب بھی قتل (شہید) ہوئے جو حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہما سے افضل تھے ، آپ محراب میں کھڑے ہو کر فجر کی نماز پڑھاتے اور قرآن پڑھتے ہوئے قتل (شہید) ہوئے اور لوگوں نے آپ کے قتل کے روز کو بھی ماتم کا دن نہیں بنایا ،اور اسی طرح حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ آپ سے افضل تھے اور لوگوں نے آپ کے یوم وصال کو بھی ماتم کا دن نہیں بنایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا اور آخرت میں سید ولد آدم ہیں آپ کو اللہ تعالیٰ نے اسی طرح وفات (دنیا سے رخصتی) دی جیسے آپ سے پہلے انبیاء نے وفات(دنیا سے رخصتی) پائی اور کسی نے ان کی وفات کے روز کو ماتم کا دن نہیں بنایا اور نہ وہ کام کئے ہیں ، جو یہ جاہل رافضی حضرت حسین کے قتل (شہادت) کے روز کرتے ہیں اور نہ ان کی موت کے روز اور نہ ان سے پہلے کسی شخص نے متقدم الذکر امور میں سے کسی امر کا اظہار کیا ہے جس کا یہ لوگ حضرت حسین کے قتل (شہادت) کے روز ادعا کرتے ہیں جیسے سورج گرہن اور وہ سرخی جو آسمان پر نمودار ہوتی ہے وغیرہ ذالک ۔
[6/16, 5:53 AM] null: `کربلا کی مٹی فرشتے نے دکھائ تھی ،`
*البدایہ والنہایہ المعروف تاریخ ابن کثیر ج 8 ص 402 مترجم*
_حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ بارش کے فرشتے نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے اُسے اجازت دے دی اور حضرت ام سلمہ سے فرمایا ہمارے دروازے کی نگرانی کرنا کہ کوئی شخص ہمارے پاس پا نہ آئے حضرت حسین آئے اور کود کر اندر داخل ہو گئے اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر چڑھنے لگے ، فرشتے نے کہا کیا آپ اس سے محبت کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ، اس نے کہا آپ کی امت اسے قتل کرے گی اور اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہ جگہ بھی دکھا دوں جہاں یہ قتل ہوگا ، راوی بیان کرتا ہے اس نے اپنا ہا تھ مارا اور آپ کو سرخ ، مٹی دکھائی ، حضرت ام سلمہ نے یہ مٹی لے لی اور اُسے اپنے کپڑے کے پلٌو میں باندھ لیا ، راوی بیان کرتا ہے ہم سنا کرتے تھے کہ آپ کر بلا میں قتل ہوں گے ،_
`✍🏿 محمد معراج رضوی واحدی`
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88LGEL2ATwqRgzWv0v
[6/16, 6:06 AM] null: `کربلا میں حسین کو شہید کیا جائے گا ،تم میں جو شخص اس موقع پر موجود ہو وہ اس کی مدد کرے`
*البدایہ والنہایہ المعروف تاریخ ابن کثیر ج 8 ص 403*
اور ابو القاسم بغوی نے بیان کیا ہے کہ محمد بن ہارون ابو بکر نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن محمد الرقی اور علی بن حسن رازی نے ہم سے بیان کیا کہ سعید بن عبد الملک ابو واقد الحرانی نے ہم سے بیان کیا کہ عطاء بن مسلم نے ہم سے بیان کیا کہ اشعث بن سحیم نے اپنے باپ کے حوالے سے سے بیان کہ ہم سے بیان کیا کہ میں نے انس بن حارث کو بیان کرتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ کہ میں وسلم کو فرماتے سنا کہ میرا بیٹا یعنی حضرت حسین ارض کربلا (کربلا کی زمین) میں قتل ہوگا اور تم میں جو شخص اس موقع پر موجود ہو وہ اس کی مدد کرے ۔ راوی بیان کرتا ہے ، انس بن حارث کر بلا کی طرف گئے اور حضرت حسین کے ساتھ قتل ہو گئے ، ابو القاسم بغوی بیان کرتے ہیں ، میں نہیں جانتا کہ اس کے سوا کسی دوسرے شخص نے اسے روایت کیا ہو۔
`✍🏿محمد معراج رضوی واحدی`
https://whatsapp.com/channel/0029Vb88LGEL2ATwqRgzWv0v
[6/16, 6:13 PM] null: `حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے قتل گاہِ امام حسین دیکھی تو آپ نے وہاں نماز ادا فرمائی تھی ،`
*البدایہ والنہایہ المعروف تاریخ ابن کثیر ج 8 ص 403/402*
_امام احمد نے بیان کیا ہے کہ محمد بن عبید نے ہم سے بیان کیا کہ شراحیل بن مدرک بن عبد اللہ بن یحییٰ سے اس کے باپ کے حوالے سے ہم سے بیان کیا کہ وہ حضرت علی کے ساتھ روانہ ہوا اور وہ آپ کا کوزہ بردار (سامان اٹھانے والا) تھا۔ اور جب وہ صفین کو جاتے ہوئے نینوی (کربلا کی زمین قریب)سے گزرے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آواز دی اے ابو عبد اللہ ٹھہر جاؤ، اے ابو عبد اللہ فرات کے کنارے پر ٹھہر جاؤ میں نے پوچھا آپ کیا کہنا چاہتے ہیں آپ نے فرمایا میں ایک روز رسول اللہ صلی صلی اللہ اللہ علیہ علیہ و وسلم کے پاس گیا تو آپ کی آنکھیں اشکبار تھیں ، میں نے پوچھا یا رسول اللہ آپ کو کس بات نے رلایا ہے ؟ آپ نے فرمایا ابھی جبریل میرے پاس سے اُٹھے ہیں اُنہوں نے مجھے بتایا ہے کہ حسین ، فرات کے کنارے پر قتل ہوں گے نیز کہا گیا میں آپ کو اس کی مٹی سونگھادوں ! حضور فرماتے ہیں اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور ایک مٹھی مٹی پکڑ کر مجھے دے دی اور میں اپنے آنسوؤں کو ضبط نہ کر سکا ، احمد اس کی روایت میں متفرد ہیں ۔ اور محمد بن سعد نے عن علی بن محمد عن یحیی بن زکریا عن رجل عن عامر الشعبی عن علی اسی کی مثل روایت کی ہے اور محمد بن سعد وغیرہ نے کئی طریق سے حضرت علی بن ابی طالب سے روایت کی ہے کہ وہ صفین جاتے ہوئے اندرائن کے پودوں کے پاس کربلا سے گزرے تو آپ نے اس کا نام دریافت کیا تو آپ کو بتا یا گیا کہ اس کا نام کر رہا ہے ، آپ نے فرمایا کرب اور بلا ء آپ نے اتر کر وہاں ایک درخت کے پاس نماز پڑھی پھر فرمایا ، یہاں شہداء قتل ہوں گے جو صحابہ کے سوا بہترین شہداء ہوں گے وہ جنت میں بلا حساب داخل ہوں گے اور آپ نے وہاں ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا۔ پس انہوں نے اسے کچھ پہچان لیا اور حضرت حسین کو اسی جگہ میں قتل ہوئے ،_
✍🏿`محمد معراج رضوی واحدی`
`قاتلانِ حسین کیا شفاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی امید رکھتے ہیں`
`البدایہ والنہایہ المعروف تاریخ ابن کثیر ج 8 ص 405`
_ابن عساکر نے روایت کی ہے کہ لوگوں کا ایک گروہ ایک غزوہ میں بلاد روم کی طرف گیا تو انہوں نے ایک کلیسا میں لکھا دیکھا ، کیا وہ اُمت جس نے حسین کو قتل کیا ہے ، یوم حساب کو اس کے نانا کی شفاعت کی اُمید رکھتی ہے انہوں نے ان سے پوچھا یہ شعر اس نے لکھا ہے انہوں نے کہا یہ آپ کے نبی کی بعثت سے تین سو سال پہلے کا لکھا ہوا ہے ، روایت ہے کہ جن لوگوں نے آپ کو قتل کیا انہوں نے واپس آکر شراب نوشی کرتے ہوئے رات گزاری اور سر ان کے پاس موجود تھا تو ایک آہنی قلم (مضبوط قلم) ان کے سامنے نمودار ہوا اور اس نے دیوار پر ان کے لیے یہ شعر لکھا ، کیا وہ اُمت جس نے حسین کو قتل کیا ہے ، یوم حساب کو اس کے نانا کی شفاعت کی امید رکھتی ہے ۔_
✍🏿 `محمد معراج رضوی واحدی`
محرم کے بعض من گھڑت واقعات جو شیعاؤں نے ایجاد کۓ`
`البدایہ والنہایہ المعروف تاریخ ابن کثیر ج 8 ص 407`
شیعہ حضرات نے یوم عاشورہ کے بارے میں بڑا مبالغہ کیا ہے اور قبیح جھوٹ کے طور پر بہت سی احادیث وضع کی ہیں مثلاً یہ کہ اس روز سورج کو گرہن لگ گیا اور ستارے ظاہر ہو گئے اور اس روز جو پتھر بھی اٹھایا جاتا اس کے نیچے خون نظر آتا اور آسمان کی اطراف سرخ ہو گئیں اور سورج طلوع ہوتا تو اس کی شعاعیں خون کی طرح ہوتیں اور آسمان خون کے لوتھڑے کی طرح ہو گیا اور ستارے ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے اور آسمان نے سرخ خون بر سایا اور اس روز سے پہلے آسمان میں سرخی نہ تھی وغیرہ وغیرہ۔
ہر سال محرم میں خطبا کچھ نیے واقعات تیار کرتے ہیں
لہذا آپ کے علاقے میں جہاں کہیں بھی کوئی خطیب بیان کرے آپ اسے ریکارڈ کریں
تاکہ غلط بیانی کرنے والوں کی اصلاح کی جاے
جذبات میں کچھ لوگ بہت کچھ خلاف عقائد اہلسنت بھی عوام بتا اور سکھا دیتے ہیں... #کچھ_کی_نشاندہی. ...
👈 امام حسین کے بال مبارک سیاہ تھے وقت کربلا سفید ہوگیے
👈 سیدہ سکینہ کو بعد کربلا یزید کی جیل میں وفات پانا
👈 سیدنا علی اصغر رضی اللہ عنہ کے خون کو امام حسین کا چہرے پر ملنا
👈 کربلا میں ہندوستان سے لشکر کا جانا اور امام حسین کے ہم زلف (ساڑھو) کا واقعہ
👈 سیدنا قاضی شریح رضی اللہ عنہ کو امام حسین کے خلاف فتوی دینے والا کہنا
👈 سیدنا قاسم اور سیدہ سکینہ کی شادی کرانا اور اسی کی مناسبت سے مہندی نکلانا
👈 سیدہ صغری رضی اللہ عنہا کے خط کا واقعہ
👈 کبوتر کا کربلا سے خون لگا کر مدینہ منورہ آنا
یہ سارے عقلا نقلا واقعات جھو..ٹے ہیں
مگر خطبا انہیں میں نمک مرچی لگا کر خوب روتے رلاتے ہیں، یاد رہے غم حسین میں رونا نیکی ہے مگر جھو.ٹ کے ذریعہ رلانا یہ یقیناً غلط ہے
یزید اور یزیدی لشکر نے امام عالی مقام اور آپ کے رفقا کو مظلومانہ شہید کیا.. یہ ایک حقیقت ہے
حسن نوری گونڈوی
`کیا شہادتِ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد زمین پر تین دن تک اندھیرا رہا؟`
`البدایہ والنہایہ المعروف تاریخ ابن کثیر ج 8 ص 407`
_اور ابن لہیعہ نے بحوالہ ابو قبیل المعافری روایت کی ہے کہ اس روز سورج گرہن ہوا حتیٰ کہ ظہر کے وقت ستارے نمودار ہو گئے اور جب وہ حضرت حسین کے سر کو قصرِ امارت میں لے گئے تو دیواریں خون برسانے لگیں اور زمین تین روز تاریک رہی اور اس روز زعفران اور درس سے جو چیز مس کرتی وہ اس کے چھونے سے مل جاتی اور بیت المقدس کے جس پتھر کو اٹھایا جاتا اس کے نیچے تازہ خون نمودار ہو جاتا اور حضرت حسین کے جن اونٹوں کو انہوں نے غنیمت بنایا جب انہوں نے انہیں پکایا تو ان کا گوشت ،اندرائن کی طرح کڑوا ہو گیا ، اس قسم کی دیگر اکاذیب (چھوٹے) اور موضوع (من گھڑت) احادیث وغیرہ سے کچھ بھی صحیح نہیں ہے۔_
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں